

ڈیرہ اسماعیل خان (نثار بیٹنی سے) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی ہسپتال میں عیادت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، کمشنر ڈیرہ، آر پی او، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور طبی حکام سے علاج معالجے کے حوالے سے بریفنگ لی۔بعد ازاں الامین ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے سو دن کے اندر امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف گزشتہ کئی برسوں میں متعدد بڑے اور ہزاروں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے، تاہم مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا، اس لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے لیے تیار کیے جانے والے جدید بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سکیورٹی آلات کی فراہمی کا عمل تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ادائیگی کر چکی ہے، تاہم مطلوبہ سامان تاحال فراہم نہیں کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت سمیت دیگر علاقوں میں سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے، تاہم وفاقی اداروں کو بھی صوبے کی سکیورٹی ضروریات کے مطابق تعاون کرنا چاہیے۔انہوں نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص بھی عام شہری کے خلاف بندوق اٹھاتا، فائرنگ یا خودکش حملہ کرتا ہے، وہ دہشتگرد ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے یا گروہ سے ہو۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دہشتگردی میں جاں بحق ہونے والے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے اہل خانہ کو شہدا پیکیج دیا جائے گا۔گورنر راج سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ اقدامات کرنا چاہتے ہیں، وہ کر لیں، محض دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت عمران خان کے حقیقی آزادی کے نظریے پر قائم ہے۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی رہائشگاہ علی امین ہاؤس پر ان سے ملاقات بھی کی، جسے سیاسی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا.
