
عباس مہد
تاریخ کی تاریخ دانیاں جب کسی خطے کی تقدیر کا احاطہ کرتی ہیں، تو ایوانِ اقتدار کے شاندار درودیوار یا بلند بانگ بیانیے نہیں، بلکہ زمین سے جڑے وہ نقوشِ عمل یاد رکھے جاتے ہیں جو عوامی مسرت اور سماجی بہبود کی صورت میں پھوٹتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے دل، یعنی خطہِ پنجاب میں گزشتہ مد و جزر کے بعد انتظامی بصیرت اور تزویراتی تدبیر کا جو نیا سورج طلوع ہوا ہے، اس نے “خوشحال پنجاب” کے تصور کو محض ایک سیاسی نعرے کے سانچے سے نکال کر ایک ٹھوس، ملموس اور درخشندہ حقیقت میں ڈھال دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب جس معاشی، سماجی اور ساختاری تبدیلی کی راہ پر گامزن ہے، وہ محض روایتی سیاست کا حصہ نہیں، بلکہ ایک ایسی طرزِ حکمرانی(Governance Paradigm) کی نوید ہے جہاں ہر اینٹ پر عوامی خوشحالی کی مہر ثبت ہے۔کسی بھی معاشرے کی روح اس کے سب سے محروم طبقے کی حالتِ زار میں دھڑکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے “نگہبان رمضان راشن پروگرام” سے لے کر “ہم قدم” اور سوشل ویلفیئر اصلاحات تک، ریاست کے چھت کا سایہ ہر اس دہلیز تک پہنچا ہے جہاں پہلے غربت اور یاسیت کی تاریکی تھی۔ لاکھوں مستحق خاندانوں کی ان کی دہلیز پر باوقار امداد، راشن کی منصفانہ اور شفاف فراہمی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و کیو آر کوڈز کے مربوط نظام کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب شاکی شہری کی جگہ خود اس کے قدموں میں ریلیف لے کر کھڑی ہے۔ اس سماجی ڈھانچے نے نہ صرف غربت کے زہر کو کم کیا ہے بلکہ دیہی و شہری پنجاب کے غریب انسان کے وجود میں یہ اعتماد بیدار کیا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔حکمرانی کی اصل خوبصورتی اور معروضی کسوٹی اس کا صحتِ عامہ کا نظام ہوتا ہے۔ مریم نواز کے دورِ حکومت میں “کلینک آن ویلز” (Clinic on Wheels) اور “فیلڈ ہسپتال” کا جو بے مثال معمار کھڑا کیا گیا، اس نے پنجاب کے دور دراز علاقوں، قصبات اور تھل و چولستان جیسے وادیوں میں طبی خدمات کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جہاں ماضی میں علاج کے لیے غریب شہریوں کو صدائے احتجاج بلند کرنی پڑتی تھی، وہاں اب جدید آلات سے لیس گاڑیاں اور ماہر ڈاکٹرز خود کسان کی بستی تک پہنچ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “ایئر ایمبولینس سروس” کا تاریخی قیام، جو پاکستان کی تاریخ کا پہلا خلائی اور ہنگامی ریلیف کا منصوبہ ہے، اس فکر کا مظہر ہے کہ انسانی زندگی کا تحفظ ہر تزویراتی ترجیح سے بلند ہے۔ ہسپتالوں میں مفت ادویات کی بحالی اور بائیو میٹرک حاضری نے ڈسپنسری سے لے کر ٹیچنگ ہسپتالوں تک انتظامی نظم و ضبط کا نیا سنگِ میل قائم کیا ہے۔پنجاب کا نوجوان، جو کسی بھی ملکی پیش رفت کا اصل اور متحرک ایندھن ہے، اس عہد میں محض خواب دیکھنے والا نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر پانے والا بن چکا ہے۔ “وزیراعلیٰ یوتھ لون سکیم” اور “سکالرشپ پروگرامز” کے ذریعے ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں کشکول کے بجائے خودداری کا زرق برق استعار تھما دیا گیا ہے۔ “الیکٹرک بائیکس سکیم” نے جہاں طلبہ کو محفوظ، جدید اور ماحول دوست سواری کی سہولت فراہم کر کے ان کے تعلیمی سفر کو آسان بنایا، وہاں “سی ایم لیپ ٹاپ سکیم” کی بحالی نے پنجاب کے نوجوان کو اکیسویں صدی کی تکنیکی اور گلوبل مارکیٹ کا باوقار کھلاڑی بنا دیا ہے۔ یہ انقلابی اقدام محض گاڑیوں یا ڈیوائسز کی تقسیم نہیں، بلکہ اگلی نسل کی تعلیمی و معاشی خودمختاری کا وہ زرخیز بیج ہے جو آنے والے ادوار میں ثمر آور ہوگا۔زراعت، جو پنجاب کے وجود کی شریان اور معیشت کی روح ہے، اس نئے انتظامی ماڈل میں محوری نقطہ بنی ہے۔ “کسان کارڈ” کی صورت میں پنجاب کے کاشتکار کو ایک ایسا جامع معاشی حصار فراہم کیا گیا ہے جس نے اسے آڑھتی کے استحصال اور مہنگے کھاد و بیج کے چنگل سے آزاد کر دیا ہے۔ اربوں روپے کے اس زرعی پیکج، سولر ٹیوب ویل سکیم اور زرعی اصلاحات نے نہ صرف فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو جلا بخشی ہے بلکہ پنجاب کو غذائی خودکفالت (Food Security) کا ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیا ہے۔ کسان کے چہرے کی مسکراہٹ اور کھیتوں کی ہریالی دراصل “خوشحال پنجاب” کے اس خواب کا قصیدہ ہے جو حقیقت کے قالب میں ڈھل چکا ہے۔جدید بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی تحفظ کے بغیر خوشحالی کا تصور ادھورا رہتا ہے۔ “اپنی چھت، اپنا گھر” منصوبہ اس طبقے کے لیے امید کا سورج بن کر ابھرا ہے جو زندگی بھر کی کمائی کے بعد بھی اپنے ذاتی مکان کی حسرت دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو جاتا تھا۔ بغیر سود کے آسان اقساط پر چھت کی فراہمی نے ہزاروں خاندانوں کو ان کی اپنی زمین اور وقار بخشا ہے۔ اس کے متوازی، “دستک ایپ” جیسے ای گورننس کے جدید اقدامات نے بیوروکریسی کے فرسودہ رویوں کو ختم کر کے تمام سرکاری خدمات کو شہری کی ایک ہی انگلی کی جنبش پر لا کھڑا کیا ہے۔ “سموگ فری پنجاب” کی سنجیدہ کوششیں، الیکٹرک بسوں کا قیام، اور صفائی کا مربوط نظام اس بات کا گواہ ہیں کہ یہ حکومت محض عارضی ریلیف نہیں بلکہ پائیدار اور ماحول دوست مستقبل کی عمارت تعمیر کر رہی ہے۔ تحلیلی خلاصہ اور فکرِ فردا کا حتمی نچوڑ یہی ہے کہ مریم نواز کا مرتب کردہ “خوشحال پنجاب” کا خاکہ محض کاغذ کے صفحات پر لکھی تحریر نہیں، بلکہ زمین پر سانس لیتی ایک جیتی جاگتی تبدیلی ہے۔ جب ریاست اپنے وسائل کی برچھیوں کو عوام کے زخموں کے لیے مرہم بنا دیتی ہے، تو تقدیر کا دھارا خود بخود بدل جاتا ہے۔ پنجاب میں جاری یہ ہمہ گیر، سائنسی اور شفاف ترقیاتی سفر اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر نیّت میں صداقت، بصیرت میں پختگی اور انتظامی امور میں استحکام ہو، تو ریگزار بھی گل گلزار بن جاتے ہیں اور عوام کا ہر محروم طبقہ خوشحالی کے سفر کا ہمرکاب بن جاتا ہے۔
