حسیب علی گجر
سوچنے کا مقام ہے! ایرانی علاقائی کھیل اور حوثیوں کا نیا محاذ! یہ محض ایک میزائل کا سوال نہیں۔ یہ صرف یمن، سعودی عرب یا بحیرۂ احمر کا مسئلہ بھی نہیں۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: خطے میں طاقت کا توازن کس کے حق میں تبدیل ہو رہا ہے، کون ریاستوں کو اندر سے کمزور کر رہا ہے، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو علاقائی سیاست کے مہرے کے طور پر استعمال کرنے کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟ آج جب حوثی حملوں کا رخ سعودی عرب کی طرف بڑھ رہا ہے، ریاض پر بیلسٹک میزائل داغے جا رہے ہیں، سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں اور بحیرۂ احمر کی تجارت ایک مرتبہ پھر خطرے میں ہے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس پورے کھیل کا سیاسی اور تزویراتی فائدہ کس کو حاصل ہو رہا ہے؟ 19 ستمبر 2026 کو سعودی حکام نے ریاض کی جانب حوثی بیلسٹک میزائل حملے کی تصدیق بھی کی۔ یہاں جذبات سے زیادہ جغرافیہ، طاقت اور مفادات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔مسقط میں مذاکرات: سوال باقی ہے، مگر سازشی کہانی نہیں، حالیہ دنوں میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان خفیہ رابطوں کی رپورٹ سامنے آئی۔ رائٹرز کے مطابق ان ملاقاتوں میں حوثی نمائندوں نے امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے اور سعودی جہازوں کے خلاف کارروائی پر توجہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اس ملاقات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، تاہم عمان کا ثالثی کردار پہلے سے موجود ہے۔ یہ اطلاع یقیناً بڑے سوالات پیدا کرتی ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا! کسی خفیہ یا پسِ پردہ رابطے کی خبر اور کسی باقاعدہ “امریکہ، اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان سعودی عرب پر حملوں کی ڈیل” کے ثبوت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔لہٰذا سوال ضرور اٹھنا چاہیے، مگر ثبوت کے بغیر پورا مقدمہ نہیں گھڑنا چاہیے، اصل تشویش پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے، اگر ایک مسلح گروہ ایک طرف اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا بیانیہ پیش کرے، دوسری طرف امریکی حکام سے مذاکرات کرے، اور اسی دوران سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون استعمال کرے، تو ہر پاکستانی، ہر عرب اور ہر مسلم ملک کے پالیسی ساز کو یہ پوچھنا چاہیے! یہ جنگ آخر کس کے مفاد میں آگے بڑھ رہی ہے؟ ایران کا اصل ہتھیار صرف میزائل نہیں، اثر و رسوخ کا جال ہے، ایران نے 1979 کے انقلاب کے بعد اپنی علاقائی حکمتِ عملی میں صرف روایتی فوجی طاقت پر انحصار نہیں کیا۔ اس نے مختلف ممالک میں سیاسی، عسکری اور غیر ریاستی گروہوں کے ساتھ تعلقات کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دیا۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مختلف شیعہ مسلح گروہ، شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت اور یمن میں حوثیوں کی مدد—یہ سب ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے مختلف پہلو ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی ایک تحقیقی رپورٹ بھی ایران کے اسی علاقائی نیٹ ورک اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کو دستاویزی طور پر بیان کرتی ہے۔ یہاں اصل سوال فرقہ نہیں، ریاستی خودمختاری ہے، جب کسی ملک کے اندر ایک ایسا مسلح گروہ طاقت حاصل کر لے جو ریاستی فوج کے متوازی عسکری قوت رکھتا ہو، بیرونی طاقت سے اسلحہ اور تربیت حاصل کرتا ہو اور اپنی الگ جنگی ترجیحات طے کرتا ہو، تو ریاست کمزور ہوتی ہے۔ اور کمزور ریاست ہمیشہ کسی نہ کسی طاقتور فریق کے لیے میدان بن جاتی ہے، عراق ایک تاریخی سبق! عراق اور ایران کی جنگ کو محض اس دعوے کے ذریعے بیان کرنا کہ ایران نے اسرائیل سے لڑنے والے عراق کو آٹھ سالہ جنگ میں تباہ کردیا، تاریخی طور پر درست نہیں۔ جنگ کا آغاز 22 ستمبر 1980 کو عراقی حملے سے ہوا تھا۔ بعد میں ایران نے جنگ کو عراقی سر زمین تک لے جا کر اسے طویل کیا، اور 1988 میں اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کی بنیاد پر جنگ ختم ہوئی۔ اس جنگ نے دونوں ملکوں کو ناقابلِ تصور انسانی اور معاشی نقصان پہنچایا۔ لیکن اس سانحے سے ایک بڑا سبق ضرور نکلتا ہے! جب خطے کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتی ہیں تو پورا خطہ کمزور ہوتا ہے۔ اور ایک کمزور خطہ ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے لیے زیادہ قابلِ مداخلت ہوتا ہے۔ لبنان ریاست کے اندر ریاست! لبنان کی مثال شاید اس بحث کو سمجھنے کے لیے زیادہ واضح ہے، ایران نے حزب اللہ کو دہائیوں سے سیاسی اور عسکری مدد دی ہے۔ حزب اللہ ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جو لبنانی ریاست کے اندر اپنی مستقل عسکری صلاحیت رکھتی ہے۔ برطانوی پارلیمانی تحقیق بھی اسے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے اہم ستونوں میں شمار کرتی ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف لڑتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے! کسی ملک کی قومی سلامتی کا فیصلہ ریاست کرے گی یا ریاست کے اندر موجود ایک مسلح تنظیم؟ یہ سوال صرف لبنان کا نہیں۔ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا سوال ہے۔ شام اسرائیل کے ساتھ جنگ کا بیانیہ، مگر زمین پر تباہ حال ریاست، شام بھی اس پیچیدہ کھیل کی ایک بڑی مثال ہے، ایران نے بشار الاسد کی حکومت کی بقا کے لیے فوجی، مالی اور سیاسی مدد فراہم کی۔ ایران کی شام میں موجودگی اور وہاں اس کے اتحادی مسلح گروہوں کا کردار متعدد بین الاقوامی ذرائع میں دستاویزی طور پر بیان ہوا ہے۔ لیکن شام کی تباہی کو صرف ایران کے کھاتے میں ڈال دینا بھی تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔ اس تباہی میں شامی حکومت، مختلف باغی گروہوں، داعش، ایران، روس، امریکہ، ترکی، اسرائیل اور دوسرے علاقائی و عالمی کرداروں کی مداخلت شامل رہی ہے۔ مگر نتیجہ بہرحال بھیانک ہے! ایک ایسی ریاست جو کبھی خطے کی اہم فوجی طاقت تھی، طویل جنگ کے بعد شدید طور پر کمزور ہوئی، اور جب کوئی ریاست اندر سے ٹوٹتی ہے تو اس کی سرحدوں اور خودمختاری کی قیمت پورا خطہ ادا کرتا ہے۔ یمنی حوثی مسئلہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں، اب آئیے یمن کی طرف! حوثیوں اور ایران کے تعلقات کوئی خفیہ راز نہیں۔ متعدد تحقیقی ادارے اور سرکاری رپورٹس ایران کی طرف سے حوثیوں کی حمایت، اسلحہ اور دیگر معاونت کا ذکر کرتی ہیں۔ اور آج یہ گروہ صرف یمنی سیاست تک محدود نہیں، بحیرۂ احمر میں جہاز رانی، باب المندب، سعودی عرب اور عالمی توانائی کی ترسیل—یہ سب ایک ہی جغرافیائی زنجیر کے حصے بن چکے ہیں۔ جولائی 2026 میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تعاون کی کوشش شروع کی، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ستمبر میں صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ حوثیوں نے سعودی اہداف کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا اور سعودی دارالحکومت ریاض کو بھی میزائل کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تو سوال یہ نہیں کہ صرف حوثی اسرائیل پر کیوں نہیں جاتے؟ زیادہ سنجیدہ سوال یہ ہے! حوثی قوت اس وقت کس علاقائی طاقت کے لیے سب سے زیادہ اسٹریٹجک دباؤ پیدا کر رہی ہے؟ اور سب سے اہم بات: سعودی عرب! یہاں سے معاملہ پاکستان سے جڑ جاتا ہے۔ سعودی عرب صرف ایک عرب ملک نہیں۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اہمیت مذہبی جذبات سے کہیں آگے ہے۔ توانائی، سرمایہ کاری، روزگار، تجارت، ترسیلاتِ زر، سفارتی تعاون اور دفاعی تعلقات یہ سب دونوں ملکوں کے تعلقات کا حصہ ہیں۔ اس لیے اگر سعودی معیشت، توانائی کی تنصیبات، بحری تجارت اور داخلی سلامتی مسلسل حملوں کی زد میں آئیں تو اس کے اثرات صرف ریاض تک محدود نہیں رہتے۔اسلام آباد تک پہنچتے ہیں، یہ کہنا کہ کسی مخصوص ملک کا مقصد لازماً “پاکستان کو کمزور کرنا” ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس ثبوت درکار ہوں گے۔ لیکن یہ کہنا بالکل جائز ہے کہ سعودی عرب کو کمزور کرنے والا کوئی بھی طویل علاقائی بحران پاکستان کے معاشی اور تزویراتی مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو جذبات کے بجائے غیر معمولی سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ خمینی اور 1979! تاریخ کو سازش میں تبدیل کرنے سے پہلے تاریخ پڑھیں، اصل تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرانس، امریکہ اور اسرائیل نے مل کر خمینی کو شاہ کے خلاف استعمال کیا اور خصوصی طیارے پر ایران پہنچایا۔ تاریخی ریکارڈ اس دعوے کی اس شکل میں تصدیق نہیں کرتا۔ خمینی 1979 میں فرانس میں جلاوطنی کے دوران موجود تھے اور انقلاب کے عروج پر ایران واپس آئے، مگر اس بات کے معتبر شواہد موجود نہیں کہ امریکہ، فرانس اور اسرائیل نے مشترکہ منصوبے کے تحت انہیں ایران میں اقتدار دلایا، بلکہ انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی دشمنی میں تبدیل ہوئے اور خطے کی سیاست نے بالکل مختلف رخ اختیار کیا، اس لیے ایران کی پالیسی پر سخت تنقید کے لیے بھی غیر ثابت شدہ سازشی دعووں کا سہارا لینا ضروری نہیں، اصل حقائق خود کافی سخت ہیں، اصل مسئلہ فرقہ نہیں، طاقت ہے، اس پورے معاملے میں ایک خطرناک غلطی یہ ہوگی کہ اسے صرف شیعہ بمقابلہ سنی مسئلہ بنا دیا جائے۔ ایسا کرنا خود ایران سمیت خطے کی تمام طاقتوں کو فائدہ دے سکتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ! کیا کسی ریاست کو اپنے ملک میں واحد مسلح قوت ہونے کا حق حاصل ہے؟ کیا یمن کا فیصلہ یمنی عوام کریں گے یا بیرونی سر پرستی رکھنے والی ملیشیائیں؟ کیا لبنان کی جنگ اور امن کا فیصلہ لبنانی ریاست کرے گی یا کوئی مسلح تنظیم؟ کیا عراق کی قومی سلامتی بغداد طے کرے گا یا بیرونی پشت پناہی رکھنے والے مسلح گروہ؟ کیا شام کی قسمت شامی عوام طے کریں گے یا عالمی اور علاقائی طاقتیں؟.اور کیا سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے معاملات میں مسلسل ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو ایک وسیع تر علاقائی طاقت کے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں؟یہی اصل سوال ہے، اسرائیل کا نام لے کر ہر کھیل کو جائز نہیں بنایا جا سکتا، خطے میں اسرائیلی کارروائیوں، فلسطینیوں کی مشکلات اور غزہ کی تباہی پر سوال اٹھانا اپنی جگہ بالکل الگ معاملہ ہے۔ لیکن اسرائیل مخالف نعرہ کسی بھی مسلح گروہ کو احتساب سے بالاتر نہیں کر دیتا۔ اگر کوئی گروہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی کسی دوسرے عرب ملک کے دارالحکومت پر میزائل داغتا ہے، تو اس سے سوال ضرور ہوگا! تمہاری جنگ کا سیاسی مقصد کیا ہے؟ اور اگر جواب یہ ہو کہ یہ سب مزاحمت ہے تو پھر اگلا سوال بھی ہوگا! مزاحمت کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ یمن کے عام لوگ؟ سعودی شہری؟لبنانی عوام؟ عراقی عوام؟ شامی عوام؟ یا وہ طاقتیں جو دور بیٹھ کر خطے میں اپنے اثر و رسوخ کی بساط بچھا رہی ہیں؟ پاکستان کو اس کھیل میں جذباتی مہرہ نہیں بننا چاہیے، پاکستان کے لیے سب سے خطرناک راستہ یہ ہوگا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ جنگ کو سوشل میڈیا کے نعروں میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ نہ ہر حوثی کارروائی کو ایک ہی سازش کا نتیجہ قرار دینا درست ہے، نہ ہر ایرانی اقدام کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کہہ کر بری الذمہ قرار دینا، اور نہ ہر سعودی پالیسی کو درست سمجھ لینا۔ پاکستان کو اپنے مفاد کی بنیاد پر سوچنا ہوگا، سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے اہم ہے، خلیج کا استحکام پاکستان کے لیے اہم ہے، بحیرۂ احمر اور باب المندب میں آزاد عالمی تجارت پاکستان کے لیے اہم ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم ممالک کو ایسی پراکسی جنگوں سے بچانا ضروری ہے جن میں مرنے والے عام مسلمان ہوتے ہیں اور فائدہ طاقت کی عالمی بساط پر بیٹھے کھلاڑی اٹھاتے ہیں۔ آج ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں، آنکھیں کھولنے کی ہے۔ حوثی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہیں یا نہیں، اس پر بحث ہوسکتی ہے۔ ایران انہیں کس حد تک ہدایت دیتا ہے، اس پر بھی مختلف تجزیے موجود ہیں۔ مگر ایران کی حوثیوں سمیت خطے کے متعدد غیر ریاستی گروہوں کے ساتھ گہری عسکری اور سیاسی شراکت داری ایک دستاویزی حقیقت ہے۔ اور آج جب سعودی عرب براہِ راست حوثی حملوں کا سامنا کر رہا ہے، امریکی حکام حوثیوں سے مسقط میں رابطہ کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن سعودی عرب کی مدد کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، تو یہ پورا منظرنامہ معمولی نہیں۔ سوچنے کا مقام یہی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں۔ کبھی پراکسی کے ذریعے، کبھی بندر گاہ کے ذریعے، کبھی تیل کے ذریعے، کبھی فرقہ وارانہ بیانیے کے ذریعے اور کبھی مذاکرات کی میز پر خاموش معاہدوں کے ذریعے طاقت کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان کو اس کھیل میں کسی کا مہرہ نہیں بننا چاہیے۔ اسے نہ تہران کی آنکھ سے پورا خطہ دیکھنا چاہیے، نہ ریاض کی، نہ تل ابیب کی اور نہ واشنگٹن کی۔ پاکستان کو پاکستان کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ جب بڑی طاقتیں اپنا کھیل کھیلتی ہیں تو نقشے پر سرحدیں وہی رہتی ہیں، مگر کمزور ریاستوں کے فیصلے بدل جاتے ہیں۔ اور تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہی ہے! جو قومیں دوسروں کے کھیل کو سمجھنے سے پہلے اس کا حصہ بن جاتی ہیں، آخرکار کھیل کا میدان بھی بن جاتی ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب۔۔۔!!!
