محمد باسط خان یوسفزئی
دورِ حاضر میں جرائم کا انداز بدل چکا ہے، لہٰذا پولیسنگ کا نظام بھی روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہ سکتا آج پولیس سے صرف گشت، گرفتاری اور مقدمات کے اندراج کی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تفتیش، فوری رسپانس اور عوام دوست رویے کی توقع کی جاتی ہےپاکستان کی پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر بدلتے ہوئے عصری تقاضوں کے پیشِ نظر اب پولیس کو مزید جدید وسائل سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے سیف سٹی کیمرے، باڈی کیمرے، جدید مواصلاتی نظام، فرانزک سہولیات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور سائبر کرائم کی تفتیش جیسے اقدامات پولیسنگ میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیںاگر ہم پولیس کو یوگنڈا اور صومالیہ جیسی سہولیات دیکر ایف بی آئی یا اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسے جدید اداروں کی طرز پر پیشہ ورانہ کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں تو پھر ہم احمقوں کی جنت بسا رہے ہیں اسے اسی معیار کی تربیت، ٹیکنالوجی، وسائل اور ادارہ جاتی معاونت بھی فراہم کرنا ہوگی جو کہ ترقی یافتہ ممالک میں حاصل ہیںساتھ ہی پولیس اہلکاروں کی فلاح، بہتر ڈیوٹی حالات اور شہداء و غازیوں کے خاندانوں کی سرپرستی بھی اصلاحات کا لازمی حصہ ہونی چاہیے کیونکہ مضبوط اور باصلاحیت پولیس ہی شہریوں کو مؤثر تحفظ فراہم کر سکتی ہےاصل انقلابی قدم یہ ہوگا کہ تھانہ خوف کی علامت کے بجائے عوامی سہولت کا مرکز بنے، تفتیش سفارش کے بجائے شواہد پر ہو، جدید ٹیکنالوجی جرم کے تعاقب میں استعمال ہو اور پولیس کی کارکردگی کا معیار صرف گرفتاری نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام، معیاری تفتیش اور عوام کا اعتماد قرار پائےمختصر یہ کہ پاکستان کو ایسی پولیس درکار ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس، سائنسی تفتیش میں ماہر، قانون کی پابند، عوام دوست اور جرائم کے خلاف مضبوط ہو یہی دورِ حاضر کا تقاضا اور حقیقی پولیس اصلاحات کا راستہ ہے
