وعدے مگر ریلیف کہاں؟

محمد سلیم پرواز

وعدے سستے، دعوے مفت، مگر زندگی مہنگی سے مہنگی تر!سبزی مہنگی، دالیں مہنگی، چکن مہنگا، چینی مہنگی، آٹا مہنگا اور عام آدمی کی آمدن وہیں کی وہیں۔ بازار جائیں تو جیب خالی ہونے کا خوف، بجلی کا بل آئے تو سانس رکنے کا خدشہ اور پٹرول پمپ پر جائیں تو دل پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر عوام کو ریلیف ملا کہاں؟روٹی سستی کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ گندم کی قیمت کم کی گئی، کسان نے احتجاج کیا، فصل کی لاگت اور آمدن کے درمیان فرق پر سوال اٹھے، روٹی کی قیمت میں کمی دکھائی گئی اور پھر مہنگائی نے دوبارہ اپنا رنگ دکھا دیا۔ یعنی ایک طرف کسان پریشان، دوسری طرف صارف پریشان؛ درمیان میں پالیسیوں کے دعوے کامیاب!بجلی کے معاملے میں بھی ریلیف کے وعدے کم نہیں کیے گئے، مگر بجلی کے بل نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔ جس گھر میں چند سال پہلے بجلی کا بل ایک معمول کا خرچ سمجھا جاتا تھا، آج وہاں بل پورے گھر کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ غریب آدمی راشن خریدے یا بجلی کا بل ادا کرے، یہی فیصلہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔گیس مہنگی، پٹرول اور ڈیزل مہنگے، ٹرانسپورٹ مہنگی، نتیجہ یہ کہ ہر چیز مہنگی۔پٹرول کی قیمت میں کمی آئے تو چند پیسوں کی خبر، اضافہ ہو تو روپے بولنے لگتے ہیں۔ عوام کے لیے یہ حساب سمجھ سے باہر ہے کہ عالمی مارکیٹ، ذخائر، درآمدی لاگت اور دیگر عوامل کا بوجھ ہر بار آخر عام شہری کی جیب ہی کیوں اٹھائے؟اور پھر چالان!قانون کی پابندی ضروری ہے، ٹریفک قوانین پر عمل ہونا چاہیے، لیکن عوام کا سوال یہ ہے کہ کیا جرمانوں اور چالانوں میں اضافہ ہی شہری نظم و ضبط کا واحد راستہ ہے؟ کیا ٹریفک نظام کی بہتری، سڑکوں کی مرمت، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی بھی اسی شدت سے ترجیح بنے گی؟چھوٹا دکاندار، ریڑھی والا، ورکشاپ کا مالک، چھوٹی صنعت چلانے والا اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والا شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کاروبار شروع کرنا مشکل، چلانا مشکل، ٹیکس دینا مشکل، بجلی کا بل دینا مشکل اور مختلف سرکاری تقاضے پورے کرنا مزید مشکل۔اگر چھوٹا کاروبار ہی دباؤ میں آ جائے تو روزگار کہاں سے پیدا ہوگا؟ملک پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ ایسے میں اگر عوامی فلاح کے نام پر بھی زیادہ تر امید قرضوں اور مالی اسکیموں سے وابستہ کر دی جائے تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم مستقل معاشی خودکفالت کی طرف جا رہے ہیں یا ایک قرض کو دوسرے قرض سے ڈھانپنے کی کوشش کر رہے ہیں؟قرض لے کر گھر چلانا اور قرض لے کر ملک چلانا دونوں صورتوں میں ایک دن حساب دینا پڑتا ہے۔سب سے بڑا سوال حکومتی اخراجات کا ہے۔جب عام آدمی سے کہا جائے کہ بجلی بچائیں، پٹرول بچائیں، ٹیکس دیں، قربانی دیں، اخراجات کم کریں اور مشکل وقت برداشت کریں تو عوام یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کفایت شعاری کا معیار کیا ہے۔ملک مقروض ہو اور عوام کو قربانی کا درس دیا جائے، مگر حکمرانوں اور اشرافیہ کے اخراجات پر انگلی اٹھانے والا سوال کرے تو اسے جواب کون دے گا؟یہ بھی عجیب معاشی منظرنامہ ہے کہ ایک طرف ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور دوسری طرف مختلف قرض اسکیموں کو عوامی ریلیف اور کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ قرض ضرورت کے وقت سہارا ضرور بن سکتا ہے، لیکن قوموں کی معیشتیں قرضوں کے سہارے مستقل بنیادوں پر مضبوط نہیں ہوتیں۔ مضبوط معیشت وہ ہوتی ہے جو پیداوار بڑھائے، برآمدات میں اضافہ کرے، صنعت کو وسعت دے، کاروبار کو آسان بنائے اور اپنے وسائل سے آمدن پیدا کرے۔آج ضرورت نئی اسکیم کے اعلان سے زیادہ نئی معاشی سمت کی ہے۔عوام کو ایسی سیاست نہیں چاہیے جس میں ہر مشکل کا جواب ایک نئی اسکیم، ایک نیا قرض یا ایک نیا وعدہ ہو۔ عوام کو ایسا نظام چاہیے جہاں کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، مزدور کی آمدن گھر چلا سکے، چھوٹا کاروبار سرکاری رکاوٹوں سے محفوظ ہو، بجلی اور گیس عام آدمی کی پہنچ میں ہوں اور حکومتی اخراجات میں حقیقی کفایت شعاری نظر آئے۔کیونکہ عوام اب نعروں سے نہیں، اپنے بجٹ سے حکومت کی کارکردگی ناپتے ہیں۔اور جب کچن کا بجٹ مسلسل بڑھتا جائے، بجلی کا بل برداشت سے باہر ہو جائے، پٹرول مہنگا ہو، کاروبار مشکل ہو اور قرض بڑھتا جائے تو پھر خوبصورت اعلانات بھی عوام کے خالی بٹوے کو مطمئن نہیں کر سکتے۔سوال صرف یہ نہیں کہ وعدے کتنے کیے گئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان وعدوں کی قیمت آخر کون ادا کر رہا ہے؟اگر جواب پھر بھی عوام ہی ہیں، تو پھر عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں:ریلیف کہاں ہے؟ خوشحالی کہاں ہے ؟

Leave a Reply